مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4277، ومصباح الزجاجة: 559) (صحیح) (تر اجع الألبانی: رقم: 196)»
وضاحت
۱؎: قبروں پر قبہ اور گنبد کی تعمیر کا معاملہ بھی یہی ہے یہ بلاوجہ کا اسراف ہے جس سے مردوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور مرنے والوں کی ایسی تعظیم ہے جو شرک کی طرف لے جاتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح