بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل باب: نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1539 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو پہاڑ کے برابر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأیمان 35 (47)، الجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز17 (945)، سنن النسائی/الجنائز79 (1996)، الإیمان 26 (5035)، (تحفة الأشراف: 13266)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز45 (3168)، سنن الترمذی/الجنائز 49 (1040)، مسند احمد (2/2، 233، 246، 280، 321، 387، 401، 430، 458، 475، 480، 493، 498، 503، 521، 531) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1540 سنن ابن ماجہ
حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قَالَ: فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟، فَقَالَ:" مِثْلُ أُحُدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 17 (946)، (تحفة الأشراف: 2115)، مسند احمد (5/276، 277، 282، 283، 284) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1541 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ هَذَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 23، ومصباح الزجاجة: 541)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/131) (صحیح)» ‏‏‏‏ (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں)
وضاحت
۱؎: اگرچہ قیراط نہایت ہلکا وزن ہے یعنی دانق کا آدھا، اور دانق ایک درہم کا چھٹا حصہ ہے، تو قیراط درہم کا بارہواں حصہ ہوا، یعنی تقریباً دو رتی، لیکن اللہ تعالی کے نزدیک یہ قیراط بہت بڑا ہے وہ جو پہاڑ سے بھی وزن میں زائد ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح