بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1510 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى : رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 109 (6194)، (تحفة الأشراف: 5158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ایک حدیث میں ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے، اور اس حدیث میں ہے کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو ابراہیم زندہ رہتے، ایسا ہونا محال تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاتم الانبیاء تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد دوسرا کوئی نبی نہیں ہو سکتا، اور تقدیر الٰہی بھی ایسی ہی تھی، جب تو آپ کے صاحبزادوں میں سے کوئی زندہ نہ بچا، جیسے طیب، طاہر اور قاسم، خدیجہ رضی اللہ عنہا سے، اور ابراہیم ماریہ رضی اللہ عنہا سے، یہ چار صاحبزادے بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اگرچہ یہ لازم نہیں ہے کہ نبی کا بیٹا بھی نبی ہی ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1511 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا، وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ، وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6482، ومصباح الزجاجة: 538) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ متروک الحدیث ہے، لیکن «عتق» کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث عبد اللہ بن ابی اوفی سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 235)
وضاحت
۱؎: قبطی: ایک مصری قوم ہے، فرعون اسی قوم سے تھا، اور اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ بھی اسی قوم کی تھیں، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی والدہ ماریہ بھی اسی قوم کی تھیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح دون جملة العتق
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أبو شيبة إبراهيم بن عثمان: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
الحكم: صحيح دون جملة العتق
حدیث نمبر: 1512 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، أُمِّهِ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ خَدِيجَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَرَّتْ لُبَيْنَةُ الْقَاسِمِ فَلَوْ كَانَ اللَّهُ أَبْقَاهُ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِضَاعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ تَمَامَ رَضَاعِهِ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَتْ: لَوْ أَعْلَمُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهَوَّنَ عَلَيَّ أَمْرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ تَعَالَى فَأَسْمَعَكِ صَوْتَهُ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ أُصَدِّقُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہو گیا، تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہو گیا ہے، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہو جاتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہو گیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے، خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں: (نہیں) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3413، ومصباح الزجاجة: 539) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (اس میں ہشام بن أبی الولید متروک راوی ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أبو المقدام هشام بن زياد: متروك
وأمه: لا تعرف (تقريب: 8823)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
الحكم: ضعيف جدا