بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل باب: نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1502 سنن ابن ماجہ
يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، خَالِدُ بْنُ الْإِيَاسِ ، إِسْمَاعِيل بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْإِيَاسِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9828، ومصباح الزجاجة: 534) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں خالد بن ایاس ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
خالد بن إياس: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 1503 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، الْهَجَرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، فَمَكَثَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ شَيْئًا، قَالَ: فَسَمِعْتُ الْقَوْمَ يُسَبِّحُونَ بِهِ مِنْ نَوَاحِي الصُّفُوفِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي مُكَبِّرٌ خَمْسًا؟، قَالُوا: تَخَوَّفْنَا ذَلِكَ، قَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَمْكُثُ سَاعَةً، فَيَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، (اور سلام پھیرنے میں توقف کیا) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله» کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5152، ومصباح الزجاجة: 535) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/356، 383) (حسن)» ‏‏‏‏ (متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری الکوفی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن مسلم الھجري لين الحديث رفع موقوفات (تقريب: 2520) لين الحديث: أي ضعيف وأخرج البيھقي (4/ 35) بإسناد قوي عن أبي يعفور وقدان عن ابن أبي أوفي به نحوه مختصرًا وھو الصحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 1504 سنن ابن ماجہ
أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، حَجَّاجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبَّرَ أَرْبَعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5891) (صحیح)» ‏‏‏‏ (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن أرطاة مدلس ہیں)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح