بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل باب: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1493 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ الْفَزَارِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ الْفَزَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی ۱؎، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض29 (332)، الجنائز62 (1332)، 63 (1333)، صحیح مسلم/الجنائز27 (964)، سنن ابی داود/الجنائز 57 (3195)، سنن الترمذی/الجنائز45 (1035)، سنن النسائی/الحیض25 (393)، الجنائز73 (1978)، (تحفة الأشراف: 4625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/14، 19) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس عورت کی کنیت ام کعب ہے جیسا کہ نسائی کی روایت میں اس کی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1494 سنن ابن ماجہ
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، هَمَّامٍ ، أَبِي غَالِبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ، فَجِيءَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى بِامْرَأَةٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، صَلِّ عَلَيْهَا، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ، وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ؟، قَالَ: نَعَمْ"، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: احْفَظُوا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز57 (3194)، سنن الترمذی/الجنائز45 (1034)، (تحفة الأشراف: 1621)، وقد أخرجہ: حم (3/118، 151، 204) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ابوحمزہ: انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح