بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1466 سنن ابن ماجہ
سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبُو بُرْدَةَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَمَّا أَخَذُوا فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ، لَا تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غسل دینا شروع کیا ۱؎ تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کرتہ نہ اتارو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1942، ومصباح الزجاجة: 521) (منکر)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابو بردہ عمر و بن یزید التیمی ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑے نکالنے کے سلسلے میں متردد ہوئے۔
قال الشيخ الألباني
منكر
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: منكر
حدیث نمبر: 1467 سنن ابن ماجہ
يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ ، صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" لَمَّا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يَلْتَمِسُ مِنَ الْمَيِّتِ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَقَالَ بِأَبِي الطَّيِّبُ: طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈتے ہیں ۱؎ لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، مرنے کے بعد بھی پاک رہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10115، ومصباح الزجاجة: 522) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں یحییٰ بن خذام مجہول ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے سند صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: یعنی نجاست وغیرہ۔ ۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزاج میں اللہ تعالیٰ نے نہایت نفاست، لطافت اور طہارت رکھی تھی، آپ خوشبو کا بہت استعمال کرتے تھے اور بدبو سے نہایت نفرت کرتے، آپ کے کپڑے اور بدن ہمیشہ معطر رہتے، یہاں تک کہ آپ جس کوچہ اور گلی سے چلے جاتے تو وہ معطر ہو جاتا، اور لوگ پہچان لیتے کہ آپ ادھر سے تشریف لے گئے ہیں، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہد کا استعمال کیا، تو بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر (گوند) کی بو آتی ہے، آپ نے شہد کا استعمال اپنے اوپر حرام کر لیا، غرض آپ اس سے بہت بچتے تھے کہ آپ کے کپڑے یا بدن میں کسی قسم کی بو ہو جو دوسرے کو بری معلوم ہو، اور اسی وجہ سے آپ کچی پیاز یا لہسن نہیں کھاتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول سے ملنے گئے، جو بڑا دنیا دار اور مال دار تھا، تو وہ کہنے لگا کہ آپ اپنے گدھے کو مجھ سے ذرا دور رکھئیے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گدھے کی بو تیرے بدن کی بو سے اچھی ہے، غرض سر سے پاؤں تک آپ لطافت و طہارت اور خوشبو ہی میں ڈوبے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی آپ کو پاک و صاف رکھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن في المتصل وصرح بالسماع في المرسل فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1468 سنن ابن ماجہ
عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلْنِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10164، ومصباح الزجاجة: 523) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں عباد بن یعقوب متروک ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1237)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
عباد بن يعقوب الرواجني الاسدي: ثقة صدوق عند الجمهور، فھو حسن الحديث
الحكم: ضعيف