بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جان نکلنے کے وقت میت کو «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل باب: جان نکلنے کے وقت میت کو «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1444 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله»  کی تلقین کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 1 (917)، (تحفة الأشراف: 13448) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مردوں سے مراد وہ بیمار ہیں جو مرنے کے بالکل قریب ہوں۔ ۲؎:تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی ان کے پاس پڑھ کر انہیں اس کی یاد دہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1445 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو (جو مرنے کے قریب ہوں) «لا إله إلا الله»  کی تلقین کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 1 (916)، سنن ابی داود/الجنائز 20 (3117)، سنن الترمذی/الجنائز 7 (976)، سنن النسائی/الجنائز 4 (1827)، (تحفة الأشراف: 4403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/3) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1446 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَامِرٍ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ؟، قَالَ:" أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں (جو لوگ مرنے کے قریب ہوں) کو یہ کہنے کی تلقین کرو: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين»  کی تلقین کرو (ترجمہ) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، جو حلیم و کریم والا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بہت بہتر ہے، بہت بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5213، ومصباح الزجاجة: 512) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں اسحاق بن عبد اللہ مجہول الحال ہیں، ویسے حدیث کا یہ جملہ «لقنوا موتاكم» صحیح ہے، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیثوں میں گزرا ہے، ملاحظہ ہو: 4317)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق بن عبد اللّٰه بن جعفر: مستور (تقريب: 464)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
الحكم: ضعيف