بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1431 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 89 (648)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، (تحفة الأشراف: 5314)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 106 (774 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، مسند احمد (3/411) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1432 سنن ابن ماجہ
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلْزِمْ نَعْلَيْكَ قَدَمَيْكَ، فَإِنْ خَلَعْتَهُمَا فَاجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْكَ، وَلَا تَجْعَلْهُمَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا عَنْ يَمِينِ صَاحِبِكَ، وَلَا وَرَاءَكَ، فَتُؤْذِيَ مَنْ خَلْفَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12969، ومصباح الزجاجة: 504) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 90 (655) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں عبد اللہ بن سعید متروک اور منکر الحدیث ہے، لیکن ابو داود کی صحیح روایت میں سیاق اس سے مختلف ہے، «ألزم نعليك قدميك» اور «ولا ورائك فتؤذي من خلفك» صرف ابن ماجہ میں ہے، اس لئے یہ الفاظ منکر ہیں)
وضاحت
۱ ؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر جوتے پاک و صاف ہوں تو اس کو پہن کر نماز پڑھنا صحیح ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جوتے پہن کر نماز پڑھی ہے، نیز اس حدیث میں جوتے رکھنے کے آداب بھی سکھائے گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا وما بين طرفيه قوي
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
الحكم: ضعيف جدا وما بين طرفيه قوي