بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1404 سنن ابن ماجہ
أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عبد الله ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عبد الله ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ۱؎، سوائے مسجد الحرام کے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة 1 (1190)، صحیح مسلم/الحج 94 (1394)، سنن الترمذی/الصلاة 126 (325)، سنن النسائی/المساجد 7 (695)، المناسک 124 (2902)، (تحفة الأشراف: 13464، 14960)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 5 (9)، مسند احمد (2/239، 251، 256، 277، 278، 386، 397، 466، 468، 473، 484، 485، 499) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: میری مسجد سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہے، یہ فضیلت توسیع شدہ حصہ کو بھی شامل ہے، جیسا کہ شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک یہ مسجد نبوی بڑھتی جائے، وہ تمام حصے بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے۔ ۲؎: مسجد حرام میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1405 سنن ابن ماجہ
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 94 (1395)، (تحفة الأشراف: 7948)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 124 (2900)، مسند احمد (2/16، 29، 53، 68، 102) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1406 سنن ابن ماجہ
إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2432، ومصباح الزجاجة: 495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/334، 343، 397) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یہاں مسجد الحرام کا ذکر کرتے وقت مدینہ منورہ کی مسجد کا استثناء نہیں کیا، اور بظاہر یہی ہے کہ سوائے مسجد نبوی کے اور مسجدوں کی لاکھ نماز سے افضل ہے، کیونکہ اگر مسجد نبوی کے ایک لاکھ نماز سے افضل ہو تو دوسری مسجدوں کے ایک ارب نماز سے افضل ہو گی، اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسی قدر ثواب عطا فرمائے، اور اس صورت میں یہ کہنا کہ دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے، صحیح ہو گا کہ جب ایک ارب نماز افضل ہوئی تو ایک لاکھ سے بطریق اولیٰ افضل ہوگی، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح