أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ، أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنِي عَنْهُ غَيْرُهُ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنِي، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ مِسْعَرٌ: ثُمَّ يُصَلِّي، وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جتنا اللہ چاہتا اس سے مجھے نفع دیتا، اور جب کوئی اور مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حدیث بیان کی، وہ سچے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور دو رکعتیں پڑھتا ہے“، مسعر کی روایت میں ہے: ”پھر نماز پڑھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 367 (1521)، سنن الترمذی/الصلاة 182 (406)، (تحفة الأشراف: 6610)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2، 8، 9، 10) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن