الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، الْأَغَرِّ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ، كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو وہ دونوں «ذاکرین» (اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے) اور «ذاکرات» (کثرت سے یاد کرنے والیوں) میں سے لکھے جائیں گے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 307 (1309)، (تحفة الأشراف: 3965، 12195) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ان کی شان میں قرآن میں یہ آیا ہے: «والذاكرين الله كثيرا والذاكرات» ”اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے مرد اور عورتیں“ (الأحزاب:35) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیام اللیل (تہجد) کے لئے دو رکعت بھی کافی ہے، اور سنت آٹھ، دس اور بارہ ہے، اور اس کے بعد وتر، اگر دو رکعت بھی نہ ہو سکیں تو صرف بستر پر ہی رہ کر تھوڑی دیر دعا اور استغفار کر لے، اور اللہ کی یہ یاد بھی غنیمت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1309)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
الحكم: صحيح