مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ ، يُحَدِّثُ أَبِي، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى لِيَسْتَسْقِي، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عید گاہ کی جانب نماز استسقاء کے لیے نکلے، آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اپنی چادر کو پلٹا، اور دو رکعت نماز پڑھائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الاستسقاء 1 (1005)، 4 (1011)، 15 (1023)، 16 (1024)، 17 (1025)، 18 (1026)، 19 (1027)، 20 (1028)، الدعوات 25 (6343)، صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (894)، سنن ابی داود/الصلاة 258 (1161)، 259 (1166)، سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة 43) (556)، سنن النسائی/الاستسقاء 2 (1506)، 3 (1508)، 5 (1510)، 6 (1511)، 7 (1512)، 8 (1513)، 12 (1521)، 14 (1523)، (تحفة الأشراف: 5297)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاةالإستسقاء 1 (1) مسند احمد (4/39، 40، 41، 42)، سنن الدارمی/الصلاة 188 (1574) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اوپر کا حصہ نیچے ہو گیا، اور نیچے کا اوپر، اور داہنا کنارہ بائیں طرف ہو گیا، اور بایاں کنارہ داہنی طرف اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے چادر کا نیچے کا بایاں کونہ اور بائیں ہاتھ سے نیچے کا داہنا کونہ پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھرا دے اس طرح سے کہ جو کونہ داہنے ہاتھ سے پکڑا ہے وہ داہنے کندھے پر آ جائے، اور جو بائیں ہاتھ سے پکڑا ہے وہ بائیں کندھے پر آ جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح ق دون قول المسعودي سألت. . الخ
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح ق دون قول المسعودي سألت. . الخ