أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي حُصَيْنٍ ، يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَوْسَطِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ فِي السَّحَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا، کبھی رات کے شروع حصے میں، کبھی درمیانی حصے میں، اور وفات کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 17 (745)، سنن الترمذی/الصلاة 218 (456)، سنن النسائی/قیام اللیل 28 (1682)، (تحفة الأشراف: 17653)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 2 (996)، سنن ابی داود/الصلاة 343 (1435)، مسند احمد (6/129، 204)، سنن الدارمی/الصلا ة 211، (1628) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وتر کو رات میں مختلف اوقات میں پڑھا ہے، لیکن اخیر عمر میں وتر کو صبح صادق کے قریب پڑھا ہے، تو ایسا ہی کرنا افضل ہے، بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو اخیر رات میں تہجد کے لئے اٹھا کرتے ہیں، اور جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ یا درمیانی حصہ میں پڑھا ہے تو اس سے جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں امت کے لئے آسانی ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح