بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1090 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو حرکت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 8 (857)، سنن ابی داود/الصلاة 209 (1050)، سنن الترمذی/الصلاة 240 (498)، (تحفة الأشراف: 12504) وقد أخرجہ: مسند احمد (2/424) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1091 سنن ابن ماجہ
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ يُجْزِئُ عَنْهُ الْفَرِيضَةُ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1682، ومصباح الزجاجة: 384) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں یزید بن ابان ضعیف ہیں، اس لئے حدیث میں وارد یہ ٹکڑا «يجزئ عنه الفريضة» صحیح نہیں ہے، بقیہ حدیث دوسرے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 540)۔
وضاحت
۱؎: «فبها» کا مطلب ہے «فباالرخصة أخذ» یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا ہے اور نعمت کا مطلب «هي الرخصة» یعنی یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے واجب نہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ اس میں ایک تو وضو پر اکتفا کرنے کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے غسل نہ کر نے کی اجازت نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح دون يجزىء عنه الفريضة
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن مسلم المكي: ضعيف
ويزيد الرقاشي: ضعيف
وحديث أبي داود (354) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
الحكم: صحيح دون يجزىء عنه الفريضة