عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ ، يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْكِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ، فَإِذَا تَرَكَهَا فَقَدْ أَشْرَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بندے اور شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو شرک کیا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1681، ومصباح الزجاجة: 381) (صحیح)» (اس کی سند میں یزید بن أبان الرقاشی ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 574، مصباح الزجاجة: 384 بتحقیق عوض الشہری)
وضاحت
۱؎: مشرک اور کافر دونوں کا حکم ایک ہے، دونوں جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، معاذ اللہ! اتنی صاف حدیثوں کو دیکھ کر بھی کوئی نماز ترک کر دے تو اس سے زیادہ بدبخت و بدنصیب کون ہو گا کہ مشرک اور کافر ہو گیا، اور دین محمدی سے نکل گیا، «أعاذنا الله» !
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف۔لضعف يزيد بن أبان الرقاشي ‘‘ وھو: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
الحكم: صحيح