بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ستونوں (کھمبوں) کے درمیان صف بندی کے حکم کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: ستونوں (کھمبوں) کے درمیان صف بندی کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1002 سنن ابن ماجہ
زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، أَبُو دَاوُدَ ، وَأَبُو قُتَيْبَةَ ، هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَتَادَةَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو قُتَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كُنَّا نُنْهَى أَنْ نَصُفَّ بَيْنَ السَّوَارِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11085، ومصباح الزجاجة: 360) (حسن صحیح)» (سند میں ہارون بن مسلم مستور ہیں، اور ان سے تین ثقات نے روایت کی ہے، اس لئے اس سند کی شیخ البانی نے تحسین فرمائی ہے، اور شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 335، صحیح ابی داود: 677، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 335)
وضاحت
۱؎: ستونوں (کھمبوں) کے بیچ میں صف باندھنے سے منع کئے جاتے تھے کیونکہ ان کے بیچ میں حائل ہونے کی وجہ سے صف ٹوٹ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس و عنعن
و حديث أبي داود (673) عن أنس: ’’كنا نتقي ھذا علي عهد رسول اللّٰه صلى الله عليه و آله وسلم ‘‘
سنده صحيح وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
الحكم: حسن صحيح