بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 947 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ، فَجِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فِي الصَّفِّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 18 (76)، الصلاة 90 (493)، الأذان 161 (861)، جزاء الصید 25 (1857)، المغازي 77 (4412)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (504)، سنن ابی داود/الصلاة 113 (715)، سنن الترمذی/الصلاة 136 (337)، سنن النسائی/القبلة 7 (753)، (تحفة الأشراف: 18293)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 11 (38)، مسند احمد (1/219، 264، 337، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 129 (1455) (صحیح)» ‏‏‏‏ (صحیح بخاری میں «بمنى» بدل «بعرفة» ہے، اور وہی محفوظ ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 709)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 948 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَت:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَرَجَعَ، فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هُنَّ أَغْلَبُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: یہ عورتیں نہیں مانتیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18293، ومصباح الزجاجة: 341)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/294) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں قیس والد محمد مجہول ہیں، اور بعض نسخوں میں «عن أمہ» آیا ہے، اور امام مزی نے «عن امہ» کو معتمد مانا ہے)
وضاحت
۱؎: یعنی اپنی جہالت اور نافہمی کی وجہ سے مردوں پر غالب آ جاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أم محمد بن قيس: لم أجد من وثقها
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 949 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا اور بالغ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 110 (703)، سنن النسائی/القبلة 7 (752)، (تحفة الأشراف: 5379)، مسند احمد (1/347) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی جب نمازی کے سامنے سے گزریں اور سترہ نہ ہو، یہ حدیث صحیح ہے، اس کا نسخ مخالفین جس حدیث سے بیان کرتے ہیں وہ ضعیف ہے، اور منسوخ ہونا قرین قیاس بھی نہیں ہے، اس لئے کہ یہ صحیح حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور انہوں نے بہت آخر زمانہ میں کم سنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیثیں سنی ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 950 سنن ابن ماجہ
زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12929، ومصباح الزجاجة: 342)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/425، 299) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 951 سنن ابن ماجہ
جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9654، ومصباح الزجاجة: 343)، مسند احمد (4/86، 5/57) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 952 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ"، قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ فقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ:" الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے اور کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے ۱؎۔ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کالے کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اگر لال کتا ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 50 (510)، سنن ابی داود/الصلاة 110 (702)، سنن الترمذی/الصلاة 137 (338)، سنن النسائی/القبلة 7 (751)، (تحفة الأشراف: 11939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/49 1، 151، 155، 160، 161)، سنن الدارمی/الصلاة 128 (1454) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جمہور نے ان روایتوں کی تاویل کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد توجہ بٹ جانے کی وجہ سے نماز میں نقص اور خلل کا پیدا ہونا ہے نہ کہ نماز کا فی الواقع ٹوٹ جانا ہے، اوپر کے حواشی میں اہل علم کی آرا ء کا ذکر آ گیا ہے، جن علماء نے ان تینوں کے گزرنے سے نماز کے باطل ہونے کی بات کہی ہے، ان میں شیخ الإسلام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن قدامہ اور ظاہر یہ ہیں، ان کے یہاں وہ روایات جن میں نماز کے نہ دہرانے کی بات ہے، وہ عام احادیث ہیں، جن میں سے مذکورہ تین چیزوں کو استثناء حاصل ہے، تو اب سابقہ حدیث عام مخصوص ہو گی اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل ہو گا۔ ۲؎: یعنی شیطان کتے کی صورت اختیار کر کے نماز توڑنے کے لئے آتا ہے، یا خود کالا کتا شیطان ہوتا ہے، یعنی شریر اور منحوس ہوتا ہے، غرض نماز کا اس سے ٹوٹ جانا حکم شرعی ہے اس میں قیاس کو دخل نہیں، اور تعجب ہے کہ حنفیہ ایک ضعیف حدیث سے قہقہہ کو ناقص وضو جانتے ہیں، اور قیاس کو ترک کرتے ہیں اور یہاں صحیح حدیث کو قیاس کے خلاف نہیں مانتے، بعض لوگوں نے اسے حقیقت پر محمول کیاہے اور کہا ہے کہ شیطان کالے کتے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کالا کتا دوسرے کتوں کے مقابل زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح