بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 893 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، بُدَيْلٍ ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، فَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، (تحفة الأشراف: 16040)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 21، 194) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 894 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 93 (282)، (تحفة الأشراف: 10041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82، 146) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں الحارث روای ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4787)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اقعاء: دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے سرین اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں، اور دونوں قدم کھڑا کر کے اس پر بیٹھنے کو بھی اقعاء کہا جاتا ہے، ممانعت پہلی صورت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (282)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 895 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ ، أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ ، أَبِي مَالِكٍ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُوسَى ، وَأَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، وَأَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ:" لَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «يا علي لا تقع إقعاء الكلب» ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«حدیث أبي اسحاق عن الحارث تقدم فيحدیث (894)، وحدیث أبي موسیٰ عن الحارث، قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9028) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد کے بنا ء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں أبو مالک ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: اس طرح نماز میں بیٹھنا ہمیشہ مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا ڈر ہوتا ہے، اگر یہ ڈر نہ ہو تو نماز کے باہر مکروہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
أبو مالك النخعي: متروك (تقريب: 8337) والحارث الأعور: ضعيف
وانظر الحديث السابق (894) وحديث مسلم (498) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 896 سنن ابن ماجہ
الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَلَا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ، ضَعْ أَلْيَتَيْكَ بَيْنَ قَدَمَيْكَ وَأَلْزِقْ ظَاهِرَ قَدَمَيْكَ بِالْأَرْضِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1121، ومصباح الزجاجة: 326) (موضوع)» ‏‏‏‏ (علاء بن زید انس رضی اللہ عنہ سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2614)
قال الشيخ الألباني
موضوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
العلاء بن زيد: متروك ورماه أبو الوليد بالكذب (تقريب: 5239) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
الحكم: موضوع