بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 816 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَرِيكٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد»  پڑھتے ہوئے سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 35 (457)، سنن الترمذی/الصلاة 112 (306)، سنن النسائی/الافتتاح 43 (951)، (تحفة الأشراف: 11087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/322) سنن الدارمی/الصلاة 66 (1235) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یہ آیت سورۃ ق (۱۰) میں ہے، مطلب یہ ہے کہ سورۃ (ق) اور اس کے برابر سورتیں فجر میں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 817 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أَصْبَغَ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَصْبَغَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ:" صَلَّيْنا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ فكَأَنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ: فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ فجر میں: «فلا أقسم بالخنس الجوار الكنس»  ۱؎ کی قراءت فرما رہے تھے، گویا کہ میں یہ قراءت اب بھی سن رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 135 (817)، (تحفة الأشراف: 10715)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 35 (456)، سنن النسائی/ الافتتاح 44 (952)، مسند احمد (4/306، 307)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1337) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی سورۃ تکویر کی قراءت فرما رہے تھے یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 818 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَوْفٍ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ ، سُوَيْدٌ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، أَبُو الْمِنْهَالِ ، أَبِي بَرْزَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَهُ، أَبُو الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ (۶۰) آیات سے سو (۱۰۰) آیات تک پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 35 (647)، سنن النسائی/المواقیت 2 (496)، 16 (526)، 20 (531)، الافتتاح 42 (949)، (تحفة الأشراف: 11607)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 11 (541)، 13 (547)، 23 (568)، 38 (599)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (398)، مسند احمد (4/420، 421، 423، 424، 425)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1338) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی سورۃ (ق) پڑھی جس میں یہ آیت ہے، یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 819 سنن ابن ماجہ
أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا، فَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقْصِرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12116، 12140)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762)، 107 (776)، 109 (778)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن ابی داود/الصلاة 129 (799)، سنن النسائی/الافتتاح 56 (975)، مسند احمد (4/383، 5/295، 300، 305، 307، 30، 310، 311)، سنن الدارمی/الصلاة 63 (1330) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: پہلی رکعت میں قراءت کو طول دینا بہ نسبت دوسری رکعت کے مستحب ہے، اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو جماعت مل جائے، اور پہلی رکعت نہ چھوٹے، اور بعضوں نے کہا یہ نماز فجر کے لیے خاص ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 820 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ:" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْمُؤْمِنُونَ فَلَمَّا أَتَى عَلَى ذِكْرِ عِيسَى أَصَابَتْهُ شَرْقَةٌ، فَرَكَعَ"، يَعْنِي: سَعْلَةً.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر کی نماز میں «سورۃ مومنون» کی تلاوت فرمائی، جب اس آیت پہ پہنچے جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے، تو آپ کو کھانسی آ گئی، اور آپ رکوع میں چلے گئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 106 (774 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن ابی داود/الصلاة 89 (649)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، (تحفة الأشراف: 5313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس باب کی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مقدار قراءت مختلف بتائی گئی ہے، جس سے حسب موقعہ پڑھنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے، آخری حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ پوری سورۃ کا پڑھنا ضروری نہیں، پہلی رکعت میں قراءت طویل کرنا، اور دوسری میں ہلکی کرنا بھی سنت رسول ہے، اور ظاہری فائدہ اس کا یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت رکعت فوت ہونے سے بچ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح