بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل باب: اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 768 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14555، 14559، ومصباح الزجاجة: 288)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 142 (348) مختصراً، سنن الدارمی/الصلاة 112 (1431) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 769 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، هُشَيْمٌ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏نفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9651، ومصباح الزجاجة: 289)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 41 (736)، وذکر أعطان الإبل، مسند احمد (4/85، 86، 5/54، 55) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کا شاہد براء رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جو ابو داود: 184 - 493 میں ہے، لیکن شاہد نہ ملنے کی وجہ سے «فإنها خلقت من الشياطين» کے لفظ کو البانی صاحب نے ضعیف کہا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2210، و تراجع الألبانی: رقم: 298)۔
وضاحت
۱؎: فؤاد عبدالباقی کے نسخہ میں اور ایسے ہی پیرس کے مخطوطہ میں «هشيم» کے بجائے «أبو نعيم» ہے، جو غلط ہے۔ ۲؎: شیطنت سے مراد شرارت ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اونٹ شیطان سے پیدا ہوا، ورنہ وہ حلال نہ ہوتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے اوپر نماز ادا نہ کرتے، لیکن شافعی کی روایت میں یوں ہے کہ جب تم اونٹوں کے باڑہ میں ہو اور نماز کا وقت آ جائے تو وہاں سے نکل جاؤ کیونکہ اونٹ جن ہیں، اور جنوں سے پیدا ہوئے ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اونٹوں میں شرارت کا مادہ زیادہ ہے، اور یہی وجہ ہے وہاں نماز پڑھنا منع ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 770 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ ، أَبِي ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَيُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھی جائے، اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3813، ومصباح الزجاجة: 290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/405، 5/102) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: حسن صحيح