بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو کام مساجد میں مکروہ ہیں ان کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل باب: جو کام مساجد میں مکروہ ہیں ان کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 748 سنن ابن ماجہ
يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خِصَالٌ لَا تَنْبَغِي فِي الْمَسْجِدِ: لَا يُتَّخَذُ طَرِيقًا، وَلَا يُشْهَرُ فِيهِ سِلَاحٌ، وَلَا يُنْبَضُ فِيهِ بِقَوْسٍ، وَلَا يُنْشَرُ فِيهِ نَبْلٌ، وَلَا يُمَرُّ فِيهِ بِلَحْمٍ نِيءٍ، وَلَا يُضْرَبُ فِيهِ حَدٌّ، وَلَا يُقْتَصُّ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ، وَلَا يُتَّخَذُ سُوقًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چند اعمال ایسے ہیں جو مسجد میں نامناسب ہیں، اس کو عام گزرگاہ نہ بنایا جائے، اس میں ہتھیار ننگا نہ کیا جائے، تیر اندازی کے لیے کمان نہ پکڑی جائے، اس میں تیروں کو نہ پھیلایا جائے، کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے، اس میں حد نہ قائم کی جائے، کسی سے قصاص نہ لیا جائے، اور اس کو بازار نہ بنایا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7661، ومصباح الزجاجة: 280) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں زید بن جبیرہ ضعیف ہیں، لیکن «لا يتخذ طريقا» کا جملہ صحیح ہے، اس لئے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً طبرانی کبیر (12/314) سند حسن سے مروی ہے: «لا تتخذ المساجد طريقاً إلا لذكر الله أو صلاة» نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1497، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1001)
قال الشيخ الألباني
ضعيف وصحت منه الخصلة الاولى
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
زيد بن جبيرة: متروك (تقريب: 2122) حدث عن داود بن الحصين بحديث منكر جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
الحكم: ضعيف وصحت منه الخصلة الاولى
حدیث نمبر: 749 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَيْعِ وَالِابْتِيَاعِ، وَعَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسَاجِدِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت اور (غیر دینی) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079)، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن النسائی/المساجد 22 (715)، (تحفة الأشراف: 8796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/179) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مراد فحش اور مخرب اخلاق اشعار ہیں، وہ اشعار جو توحید اور اتباع رسول وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں، تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 750 سنن ابن ماجہ
أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، مَكْحُولٍ ، وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ، وَمَجَانِينَكُمْ، وَشِرَاءَكُمْ، وَبَيْعَكُمْ، وَخُصُومَاتِكُمْ، وَرَفْعَ أَصْوَاتِكُمْ، وَإِقَامَةَ حُدُودِكُمْ، وَسَلَّ سُيُوفِكُمْ، وَاتَّخِذُوا عَلَى أَبْوَابِهَا الْمَطَاهِرَ، وَجَمِّرُوهَا فِي الْجُمَعِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں (پاگلوں)، خرید و فروخت کرنے والوں، اور اپنے جھگڑوں (اختلافی مسائل)، زور زور بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11751، ومصباح الزجاجة: 272) (ضعیف جداً)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں حارث بن نبہان ضعیف ہیں، اور ابو سعد محمدبن سعید المصلوب فی الزندقہ متروک)
وضاحت
۱؎: بچوں کو مسجد میں لانا اس وقت مکروہ ہے جب وہ روتے چلاتے ہوں، یا ان کے پیشاب اور پاخانہ کر دینے کا ڈر ہو، ورنہ دوسری صحیح حدیثوں سے بچوں کا مسجد میں آنا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده موضوع
أبو سعيد المصلوب: كذاب وضاع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
الحكم: ضعيف