بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جن جگہوں پر نماز مکروہ ہے ان کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل باب: جن جگہوں پر نماز مکروہ ہے ان کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 745 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ، إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے سوا ساری زمین مسجد ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 24 (492)، سنن الترمذی/الصلاة 120 (317)، (تحفة الأشراف: 4406) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/83، 96)، سنن الدارمی/الصلاة 111 (1430) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ان دو جگہوں کے سوا ہر جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں، اس لئے کہ قبرستان کی مٹی مردوں کی نجاستوں سے مخلوط ہے، اور حمام (غسل خانہ) گندگیوں کے ازالہ کی جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 746 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِي الْمَزْبَلَةِ، وَالْمَجْزَرَةِ، وَالْمَقْبَرَةِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالْحَمَّامِ، وَمَعَاطِنِ الْإِبِلِ، وَفَوْقَ الْكَعْبَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا خانہ، مذبح (ذبیحہ گھر)، قبرستان، عام راستہ، غسل خانہ، اونٹ کے باڑے اور خانہ کعبہ کی چھت پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 14 (346، 347)، (تحفة الأشراف: 7660) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (محمد بن ابراہیم منکر اور زید بن جبیرہ متروک ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 287، یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن ان مقامات کے بارے میں دوسری احادیث وارد ہوئی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (346)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 747 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ، أَبُو صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَبْعُ مَوَاطِنَ لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ: ظَاهِرُ بَيْتِ اللَّهِ، وَالْمَقْبَرَةُ، وَالْمَزْبَلَةُ، وَالْمَجْزَرَةُ، وَالْحَمَّامُ، وَعَطَنُ الْإِبِلِ، وَمَحَجَّةُ الطَّرِيقِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سات مقامات پر نماز جائز نہیں ہے: خانہ کعبہ کی چھت پر، قبرستان، کوڑا خانہ، مذبح، اونٹوں کے باندھے جانے کی جگہوں اور عام راستوں پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10571، ومصباح الزجاجة: 281)، سنن الترمذی/الصلاة (347 تعلیقاً) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف ہیں، اور سنن ابن ماجہ کے بعض نسخوں میں ساقط ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 287)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (347)
أبو صالح كاتب الليث ضعيف في غير ما يروي الحذاق كالبخاري وغيره عنه و تلميذه ھاھنا ليس من الحذاق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 406
الحكم: ضعيف