أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ، وَعَلَيَّ مِرْطٌ لِي، وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ادا کرتے تھے، اور میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 51 (514)، سنن ابی داود/الطہارة 135 (370)، سنن النسائی/القبلة 17 (769)، (تحفة الأشراف: 16308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/204) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس کا ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک جسم پر ہوتا، اس سے بھی معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن اور کپڑا پاک ہے، ورنہ ایک نجس کپڑا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بدن پر نماز کی حالت میں کیوں کر رکھ سکتے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح