بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تیمم کے احکام و مسائل باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 613 سنن ابن ماجہ
الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، أَبُو السَّمْحِ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، قَالَ:" كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ: وَلِّنِي، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، وَأَنْشُرُ الثَّوْبَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: میری طرف پیٹھ کر لو تو میں پیٹھ آپ کی طرف کر لیتا، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کر دیتا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 137 (376)، سنن النسائی/الطہارة 143 (225)، (تحفة الأشراف: 12051) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 614 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فِي سَفَرٍ، حَتَّى أَخْبَرَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَامَ الْفَتْحِ،" فَأَمَرَ بِسِتْرٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ سَبَّحَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں: میں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں نفل نماز پڑھی ہے؟ تو مجھے کوئی بتانے والا نہیں ملا، یہاں تک کہ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے سال آئے، پھر آپ نے ایک پردہ لگانے کا حکم دیا، پردہ کر دیا گیا، تو آپ نے غسل کیا، پھر نفل کی آٹھ رکعتیں پڑھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 16 (336)، المسافرین 13 (336)، (تحفة الأشراف: 18003)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 21 (280)، الصلاة 4 (357)، الأدب 94 (6158)، سنن الترمذی/الاستئذان 34 (2734)، سنن النسائی/الطہارة 143 (225)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (28)، مسند احمد (6/342، 425) سنن الدارمی/الصلاة 151 (1494) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1379) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس باب کی احادیث سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت پردہ کر لینا چاہئے، لیکن اگر کوئی کپڑے پہنے ہوئے ہے، تو بلا پردہ غسل کرنے کی اجازت ہے، نیز اس حدیث سے تو سفر میں نفل پڑھنا ثابت ہوا بعضوں نے کہا یہ نماز الضحیٰ نہیں تھی بلکہ یہ مکہ فتح ہونے پر نماز شکر تھی، اور سعید بن ابی وقاص نے جب کسریٰ کا خزانہ فتح کیا تو ایسا ہی کیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 615 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَغْتَسِلَنَّ أَحَدُكُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، وَلَا فَوْقَ سَطْحٍ لَا يُوَارِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يَرَى فَإِنَّهُ يُرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کھلے میدان میں یا چھت پر بغیر پردہ کے کوئی شخص ہرگز غسل نہ کرے، اگر وہ کسی کو نہ دیکھتا ہو تو اسے تو کوئی دیکھ سکتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9632، ومصباح الزجاجة: 236) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (حسن بن عمارة متروک الحدیث ہے، بلکہ حدیث گھڑا کرتا تھا، اور عبد الحمید ضعیف الحدیث ہیں، نیز أبو عبیدہ کا سماع ابن مسعود سے رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4818)
وضاحت
۱؎: اگر ایسے مقام میں غسل کی ضرورت پڑے تو کسی چیز کی آڑ کر لے تاکہ ستر پر لوگوں کی نگاہیں نہ پڑیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،أبو عبيدة،قيل: لم يسمع من أبيه عبد اللّٰه بن مسعود،والحسن بن عمارة: مجمع علي ترك حديثه ‘‘ أبو عبيدة عن أبيه منقطع
والحسن بن عمارة: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
الحكم: ضعيف جدا