بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 534 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ فَانْسَلَّ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ:" أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنبی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے، تو وہ چپکے سے نکل لیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو غائب پایا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟، کہا: اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الغسل 23 (283)، صحیح مسلم/الحیض 29 (371)، سنن ابی داود/الطہارة 92 (231)، سنن الترمذی/الطہارة 89 (121)، سنن النسائی/الطہارة 172 (270)، (تحفة الأشراف: 14648)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/235، 282، 471) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنبی ہونے سے مومن کا جسم اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ کوئی اسے ہاتھ سے چھولے تو ہاتھ ناپاک ہو جائے، بلکہ اس کی ناپاکی حکمی ہوتی ہے عینی نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 535 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مِسْعَرٍ ، وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، أَبِي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَحِدْتُ عَنْهُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ"، قُلْتُ: كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہو گئی اور میں جنبی تھا، میں کھسک لیا، پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 29 (372)، سنن ابی داود/الطہارة 92 (230)، سنن النسائی/الطہارة 172 (269)، (تحفة الأشراف: 3339)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/384، 402) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا، خواہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، مردہ ہو یا زندہ، امام بخاری نے ایک روایت میں تعلیقاً یہ الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں کہ مومن زندہ یا مردہ کسی صورت میں نجس نہیں ہوتا، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بزرگوں کی محفلوں میں پاکی کے اہتمام کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم یا استاذ اپنے شاگردوں کا حال پوچھے اور غیر حاضری کے اسباب دریافت کرے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح