عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مِسْعَرٍ ، وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، أَبِي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَحِدْتُ عَنْهُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ"، قُلْتُ: كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہو گئی اور میں جنبی تھا، میں کھسک لیا، پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان ناپاک نہیں ہوتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحیض 29 (372)، سنن ابی داود/الطہارة 92 (230)، سنن النسائی/الطہارة 172 (269)، (تحفة الأشراف: 3339)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/384، 402) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا، خواہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، مردہ ہو یا زندہ، امام بخاری نے ایک روایت میں تعلیقاً یہ الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں کہ مومن زندہ یا مردہ کسی صورت میں نجس نہیں ہوتا، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بزرگوں کی محفلوں میں پاکی کے اہتمام کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم یا استاذ اپنے شاگردوں کا حال پوچھے اور غیر حاضری کے اسباب دریافت کرے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح