بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 509 سنن ابن ماجہ
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، شَرِيكٌ ، عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَكُنَّا نَحْنُ نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری نماز ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الطہارة 54 (214)، سنن ابی داود/الطہارة 66 (171)، سنن الترمذی/الطہارة 44 (60)، سنن النسائی/الطہارة 101 (131)، (تحفة الأشراف: 1110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 132، 194، 260)، سنن الدارمی/الطہارة 45 (747) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 510 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 25 (277)، سنن ابی داود/الطہارة 66 (172)، سنن الترمذی/الطہارة 45 (61)، سنن النسائی/الطہارة 101 (133)، (تحفة الأشراف: 1928)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/350، 351، 358)، سنن الدارمی/الطہارة 3 (683) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 511 سنن ابن ماجہ
إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا، فَأَنَا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2571، ومصباح الزجاجة: 211) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں الفضل بن مبشر ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: اگر وضو باقی ہے ٹوٹا نہیں ہے، تو ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،الفضل بن مبشر ضعفه الجمھور ‘‘
وقال الحافظ: فيه لين (تقريب: 5416)
والحديث السابق (الأصل: 510) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 396
الحكم: صحيح لغيره