بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 456 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي حَيَّةَ ، عَلِيًّا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کہنے لگے: میرا مقصد یہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وضو دکھلا دوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10324)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة50 (116)، سنن الترمذی/الطہارة 37 (48)، سنن النسائی/ الطہارة 79 (96)، 93 (115)، مسند احمد (1/142، 156، 157) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حديث صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 457 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11574، ومصباح الزجاجة: 187)، مسند احمد (4/132) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 458 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، الرُّبَيِّعِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ ، قَالَتْ: أَتَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ تَعْنِي حَدِيثَهَا الَّذِي ذَكَرَتْ: أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّاسَ أَبَوْا إِلَّا الْغَسْلَ، وَلَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا الْمَسْحَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ربیع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، اس سے وہ اپنی وہ حدیث مراد لے رہی تھیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیر دھوئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ پاؤں کے دھونے ہی پر مصر ہیں جب کہ میں قرآن کریم میں پاؤں کے صرف مسح کا حکم پاتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15844، ومصباح الزجاجة: 188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/360) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس میں عباس کا اثر منکر ہے، اس کے راوی ابن عقیل کے حافظہ میں ضعف تھا، اور اس ٹکڑے کی روایت میں کسی نے ان کی متابعت نہیں کی ہے)۔
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا سے آخر تک محدثین کرام کے نزدیک منکر ہے، اس لئے اس کی بنیاد پر حدیث کے ضعف پر استدلال درست نہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما خود پیر دھونے پر عامل اور اس کے قائل تھے۔
قال الشيخ الألباني
حسن دون فقال ابن عباس فإنه منكر
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عقيل ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
الحكم: حسن دون فقال ابن عباس فإنه منكر