بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 443 سنن ابن ماجہ
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، شُعْبَةَ ، حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (وضو کے باب میں) دونوں کان سر میں داخل ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5306، ومصباح الزجاجة: 181) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 121، ملا حظہ ہو: الإرواء: 84)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: کانوں کے مسح کے لئے الگ سے پانی کی ضرورت نہیں، اور اگر لے تو وہ بھی جائز ہے، جیسا کہ دیگر احادیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 444 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ، وَكَانَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً، وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (وضو کے باب میں) دونوں کان سر میں داخل ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سر کا مسح ایک بار کرتے تھے، اور گوشہ چشم پر بھی انگلی پھیرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 50 (134)، سنن الترمذی/الطہارة 29 (37)، (تحفة الأشراف: 4887)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/258، 264، 268) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں، اور ان کی اس روایت میں «وكان يمسح رأسه» کا لفظ ضعیف ہے، بقیہ حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 36)
قال الشيخ الألباني
صحيح دون مسح المأقين
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح دون مسح المأقين
حدیث نمبر: 445 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأُذُنَانِ مِنِ الرَّأْسِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (وضو کے باب میں) دونوں کان سر میں داخل ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13095، ومصباح الزجاجة: 182) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس سند میں عمرو بن الحصین اور محمد بن عبد اللہ بن علاثہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، کما تقدم)
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ سر کے مسح کے پانی سے کان کا مسح بھی کیا جائے گا کیونکہ کان بھی سر ہی کا ایک حصہ ہے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کان کے لئے نیا پانی لینا بھی مشروع ہے لیکن علامہ ابن القیم نے زاد المعاد میں ثابت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کانوں کے لئے نیا پانی لینا ثابت نہیں، البتہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل سے ثابت ہے، علامہ عبدالرحمن مبارکپوری تحفۃ الاحوذی میں کہتے ہیں: میرے علم میں کوئی ایسی صحیح مرفوع روایت نہیں جس میں یہ بیان ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کانوں کے لئے نیا پانی لیا ہو، ہاں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسا کرنا ثابت ہے، امام مالک نے موطا میں نافع کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے کانوں کے لئے نیا پانی لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح