بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سر کے مسح کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: سر کے مسح کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 434 سنن ابن ماجہ
الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ : نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا، وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن عمارہ بن ابی حسن مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نانا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری مازنی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، اور وضو کا پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا، اور دوبار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح اس طرح کیا کہ دونوں ہاتھ سر کے اگلے حصہ پر رکھے، اور ان کو پیچھے کو لے گئے یعنی سر کے اگلے حصے سے شروع کیا، اور دونوں ہاتھوں کو گدی تک لے گئے پھر اسی جگہ پر واپس لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 39 (185)، 45 (186)، 42 (191)، 43 (192)، صحیح مسلم/الطہارة 7 (235)، سنن ابی داود/الطہارة 50 (119)، سنن الترمذی/الطہارة 24 (32)، 36، (47) سنن النسائی/الطہارة 80 (98)، 81 (98)، 82 (99)، (تحفة الأشراف: 5308)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 1 (1)، مسند احمد (4/38، 39)، دی/الطہارة 27 (721)، وقد مضی برقم: (405) (صحیح)» ‏‏‏‏ (عمرو بن یحییٰ بن عمارة بن ابی حسن انصاری مازنی مدنی عبد اللہ زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ کے نواسہ ہیں، اور ان کے دادا ابو حسن تمیم بن عمرو صحابی رسول ہیں، ملاحظہ ہو: تہذہیب الکمال: 22/296)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 435 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حَجَّاجٍ ، عَطَاءٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9829)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 50 (109)، مسند احمد (1/66، 72، 2/348) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 436 سنن ابن ماجہ
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي حَيَّةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سر کا مسح ایک بار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10323)، سنن ابی داود/الطہارة 50 (116)، سنن النسائی/الطہارة 79 (96) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 437 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْبَصْرِيُّ ، يَزِيدَ ، سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنے سر کا مسح ایک بار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4552، ومصباح الزجاجة: 180) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں یحییٰ بن راشد اور محمد بن الحارث دونوں ضعیف ہیں، لیکن سابقہ متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 438 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا مسح دوبار کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15846)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 50 (126)، سنن الترمذی/الطہارة 25 (33)، مسند احمد (6/360) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: دوبارسے مراد آگے سے پیچھے لے جانا، اور پیچھے سے آگے لانا ہے، فی الواقع یہ ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر مرتین (دو بار) سے کردی ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (126) ترمذي (33)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
الحكم: حسن