بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 421 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو دَاوُدَ ، خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: وَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وضو میں وسوسہ ڈالنے کے کام کے لیے ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے، لہٰذا تم پانی کے وسوسوں سے بچو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 43 (57)، (تحفة الأشراف: 66)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/126) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (سند میں خارجہ بن مصعب متروک راوی ہے، اور کذابین سے تدلیس کرتا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (57)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
الحكم: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 422 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَعْلَى ، سُفْيَانَ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ؟ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ، أَوْ تَعَدَّى، أَوْ ظَلَمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اور آپ سے وضو کے سلسلے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین تین بار وضو کر کے اسے دکھایا، پھر فرمایا: یہی (مکمل) وضو ہے، لہٰذا جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے برا کیا، یا حد سے تجاوز کیا، یا ظلم کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 51 (135)، سنن النسائی/الطہارة 104 (140)، (تحفة الأشراف: 8809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 423 سنن ابن ماجہ
أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، كُرَيْبًا ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ كُرَيْبًا ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ،" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، اور آپ نے ایک پرانے مشکیزے سے بہت ہی ہلکا وضو کیا، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 5 (138)، والأذان 161 (726)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الصلاة 57 (232)، سنن النسائی/ الغسل 29 (443)، (تحفة الأشراف: 6356)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 244، 283، 330) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی بہت جلد اور تھوڑے پانی سے وضو کیا، اور یہ وقت تہجد کا تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 424 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، بَقِيَّةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ ، أَبِيهِ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: لَا تُسْرِفْ، لَا تُسْرِفْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اسراف (فضول خرچی) نہ کرو، اسراف (فضول خرچی) نہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6790) (موضوع)» ‏‏‏‏ (اس میں بقیہ مدلس، محمد بن الفضل کذاب اور فضل بن عطیہ ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4782)
قال الشيخ الألباني
موضوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده موضوع
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،الفضل بن عطية ضعيف وابنه كذاب وبقية مدلس ‘‘ محمد بن الفضل كذاب
والفضل بن عطية: صدوق وثقه الجمھور۔و بقية
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
الحكم: موضوع
حدیث نمبر: 425 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ:" مَا هَذَا السَّرَفُ"؟ فَقَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ وضو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا اسراف ہے؟، انہوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں چاہے تم بہتی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8870، ومصباح الزجاجة: 174)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/221) (حسن)» ‏‏‏‏ (تراجع الألبانی: رقم: 110، سند میں ابن لہیعہ ضعیف، اور حیی بن عبداللہ صاحب وھم راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الارواء: 140، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 3292، وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4782)
وضاحت
۱؎: ان احادیث سے وضو میں بھی فضول خرچی منع ہے، آج کل بلاوجہ پانی زیادہ بہانے کا رواج ہو گیا ہے، مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کا خاص خیال رکھیں، اور بلا ضرورت پانی نہ بہائیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
والحديث ضعفه الحافظ في التلخيص (144/1 ح 194 م) والبوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
الحكم: ضعيف