بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سمندر کے پانی سے وضو کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: سمندر کے پانی سے وضو کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 386 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ هُوَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّار، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک ہے، اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اس کا مردار حلال ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 41 (83)، سنن الترمذی/الطہارة 52 (69)، سنن النسائی/الطہارة 47 (59)، (تحفة الأشراف: 14618)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 3 (12)، مسند احمد (2/237، 36، 378)، سنن الدارمی/الطہارة 53 (755) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: سمندر کا مردار حلال ہے: اس سے مراد حلال جانور ہیں جو کسی صدمہ سے مر گئے اور سمندر نے ان کو ساحل پر ڈال دیا، اسی کو آیت  «أحل لكم صيد البحر وطعامه» (سورة المائدة: 96) میں «طَعام» سے تعبیر کیا گیا ہے، یاد رہے سمندری جانور وہ ہے جو خشکی پر زندہ نہ رہ سکے جیسے مچھلی، تو مچھلی تمام اقسام کی حلال ہیں، رہے دیگر جانور اگر مضر اور خبیث ہیں یا ان کے بارے میں نص شرعی وارد ہے تو حرام ہیں، اگر کسی جانور کا نص شرعی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام کا کھانا مروی ہے، اور وہ ان کے زمانے میں موجود تھا، تو اس کے بارے میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 387 سنن ابن ماجہ
سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ ، ابْنِ الْفِرَاسِيِّ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ ، قَالَ:" كُنْتُ أَصِيدُ، وَكَانَتْ لِي قِرْبَةٌ أَجْعَلُ فِيهَا مَاءً، وَإِنِّي تَوَضَّأْتُ بِمَاءِ الْبَحْرِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن الفراسی کہتے ہیں کہ میں شکار کیا کرتا تھا، میرے پاس ایک مشک تھی، جس میں میں پانی رکھتا تھا، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کر لیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15525، ومصباح الزجاجة: 159) (صحیح)» ‏‏‏‏ (مسلم بن مخشی نے فراسی سے نہیں سنا، ابن الفراسی سے سنا ہے، اور ابن الفراسی صحابی نہیں ہیں، اور دراصل یہ حدیث ابن الفراسی نے اپنے باب فراسی سے روایت کی ہے، جو لگتا ہے کہ اس طریق سے ساقط ہو گئے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم بن مخشي مجھول الحال
لم يوثقه غير ابن حبان والحديث السابق (الأصل: 386) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 388 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، إِسْحَاق بْنُ حَازِمٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ مِقْسَمٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2392، ومصباح الزجاجة: 160) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح