بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبیذ سے وضو کرنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: نبیذ سے وضو کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 384 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ ، أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ:" عِنْدَكَ طَهُورٌ"؟ قَالَ: لَا، إِلَّا شَيْءٌ مِنْ نَبِيذٍ فِي إِدَاوَةٍ، قَالَ:" تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ"، فَتَوَضَّأَ هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے «لیلۃالجن» (جنوں سے ملاقات والی رات) میں فرمایا: کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟، انہوں نے کہا: برتن میں تھوڑے سے نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی کا شربت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 42 (84)، سنن الترمذی/الطہارة 65 (88)، (تحفة الأشراف: 9603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/402، 449، 450، 458) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں أبوزید مجہول راوی ہیں)
وضاحت
۱؎: یہ حدیث اور بعد کی حدیث تمام محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے، اور بقول امام طحاوی قابل استدلال نہیں، خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ «لیلۃ الجن» میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نہ تھے، لہذا نبیذ سے وضو درست نہیں، جمہور کا مذہب یہی ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (84) ترمذي (88)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 385 سنن ابن ماجہ
الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةَ الْجِنِّ:" مَعَكَ مَاءٌ"؟ قَالَ: لَا، إِلَّا نَبِيذًا فِي سَطِيحَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ صُبَّ عَلَيَّ"، قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ بِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «لیلۃالجن» میں فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، چھاگل (مشک) میں نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے، میرے اوپر ڈالو، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انڈیلا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5416، ومصباح الزجاجة: 158) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ”حنش ابن لہیعہ“ دونوں ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: نبیذ وہ پانی ہے جس میں کھجور ڈال کر رات بھر بھگو یا جائے، جس کی وجہ سے پانی قدرے میٹھا ہو جائے، اور اس کا رنگ بھی بدل جائے، وہ نبیذ کہلاتا ہے۔ '' «لیلۃ الجن» : وہ رات ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنوں کو ہدایت کے لئے مکہ سے باہر تشریف لے گئے تھے، اور ان سے ملاقات کی، اور ان کو دعوت اسلام دی، اور وہ مشرف بہ اسلام ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جنوں کے پاس جانا چھ مرتبہ ثابت ہے، پہلی بار کا واقعہ مکہ میں پیش آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں تھے جیسا کہ صحیح مسلم اور سنن ترمذی کے اندر سورۃ احقاف کی تفسیر میں مذکور ہے، دوسری مرتبہ کا واقعہ مکہ ہی میں جبل حجون پر پیش آیا، تیسرا واقعہ اعلی مکہ میں پیش آیا، جب کہ چوتھا مدینہ میں بقیع غرقد کا ہے، ان تینوں راتوں میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، پانچواں واقعہ مدنی زندگی میں مدینہ سے باہر پیش آیا، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ تھے، چھٹا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی سفر کا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بلال بن حارث رضی اللہ عنہ تھے (ملاحظہ ہو: الکوکب الدری شرح الترمذی)۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال الدار قطني: ’’ تفردبه ابن لھيعة وھو ضعيف الحديث ‘‘ (76/1) يعني أنه حدث به بعد اختلاطه
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
الحكم: ضعيف