أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ ، أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ:" عِنْدَكَ طَهُورٌ"؟ قَالَ: لَا، إِلَّا شَيْءٌ مِنْ نَبِيذٍ فِي إِدَاوَةٍ، قَالَ:" تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ"، فَتَوَضَّأَ هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے «لیلۃالجن» (جنوں سے ملاقات والی رات) میں فرمایا: ”کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟“، انہوں نے کہا: برتن میں تھوڑے سے نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاک کھجور اور پاک پانی کا شربت ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 42 (84)، سنن الترمذی/الطہارة 65 (88)، (تحفة الأشراف: 9603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/402، 449، 450، 458) (ضعیف)» (اس حدیث کی سند میں أبوزید مجہول راوی ہیں)
وضاحت
۱؎: یہ حدیث اور بعد کی حدیث تمام محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے، اور بقول امام طحاوی قابل استدلال نہیں، خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ «لیلۃ الجن» میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نہ تھے، لہذا نبیذ سے وضو درست نہیں، جمہور کا مذہب یہی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (84) ترمذي (88)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
الحكم: ضعيف