أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي فَعَمِلَ بِهَا النَّاسُ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ أَوْزَارُ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِ مَنْ عَمِلَ بِهَا شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عوف مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی، اور جس کسی نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا، اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/العلم 16 (2677)، (تحفة الأشراف: 10776) (صحیح)» (اس حدیث کی سند میں کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف المزنی سخت ضعیف راوی ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن یہ متن ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، کما تقدم (207) اس لئے البانی صاحب نے اس کے متن کی تصحیح کر دی ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم: 42)
وضاحت
۱؎: بدعت ایجاد کرنے والوں اور اس کی تبلیغ و ترویج کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے، جتنے لوگ ان کے بہکانے سے راہِ حق سے گمراہ ہوں گے ان کا وبال ان ہی کے سر ہو گا، «والعیاذ باللہ» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (2677)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
الحكم: صحيح لغيره