بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب باب: عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 133 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ ، رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ ، سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْل
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْل ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، فَقَالَ:" أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ"، فَقِيلَ لَهُ: مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ:" أَنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دسویں شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/السنة 9 (4650)، (تحفة الأشراف: 4455)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب 26 (3748)، 28 (3757)، مسند احمد (1/ 187) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اور آگے کی حدیث (جس میں مذکور ہے کہ دسویں آدمی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں) میں کوئی تعارض نہیں، اس لئے کہ یہ دونوں الگ الگ مجلس کی حدیثیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 134 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اثْبُتْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ٹھہر، اے حرا! ۱؎ (وہ لرزنے لگا تھا) تیرے اوپر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے نام گنوائے: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/السنة 9 (4648)، سنن الترمذی/المناقب 26 (3747)، 28 (3757)، (تحفة الأشراف: 4458)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 188، 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «حرا» مکہ میں ا یک پہاڑ کانام ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا، اور جو فرمایا وہ ہو کر رہا، سوائے سعد رضی اللہ عنہ کے جن کا انتقال اپنے قصر میں ہوا، یا یہ کہ ان کا انتقال کسی ایسے مرض میں ہوا جس سے وہ شہادت کا درجہ پا گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تغلیبا سب کو شہید کہا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح