بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت باب: ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 42 سنن ابن ماجہ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ يَعْنِى ابْنَ زَبْرٍ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي الْمُطَاعِ ، الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ يَعْنِى ابْنَ زَبْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْمُطَاعِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَعَظْتَنَا مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَاعْهَدْ إِلَيْنَا بِعَهْدٍ، فَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، وَسَتَرَوْنَ مِنْ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے ڈرو، اور امیر (سربراہ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، گرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا، اور دین میں نئی باتوں (بدعتوں) سے اپنے آپ کو بچانا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 42]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9891) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس میں تقویٰ اختیار کرنے اور امیر کی اطاعت کرنے کے علاوہ سنت نبوی اور سنت خلفاء راشدین کی اتباع کی تاکید اور بدعات سے بچنے کی تلقین ہے، ساتھ ہی اس بات کی پیش گوئی بھی ہے کہ یہ امت اختلاف و انتشار کا شکار ہو گی، ایسے موقع پر صحیح راہ یہ ہو گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت اور خلفاء راشدین کے طریقے اور ان کے تعامل سے تجاوز نہ کیا جائے، کیونکہ اختلافات کی صورت میں حق کو پہنچاننے کی کسوٹی اور معیار یہی دونوں چیزیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 43 سنن ابن ماجہ
إِسْمَاعِيل بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، يَقُولُ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ، حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے ہماری آنکھیں ڈبدبا گئیں، اور دل لرز گئے، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو رخصت ہونے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے، تو آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین ۱؎ کی سنت سے جو کچھ تمہیں معلوم ہے اس کی پابندی کرنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور امیر کی اطاعت کرنا، چاہے وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ مومن نکیل لگے ہوئے اونٹ کی طرح ہے، جدھر اسے لے جایا جائے ادھر ہی چل پڑتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 43]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/السنة 6 (4607)، سنن الترمذی/العلم 16 (2676)، (تحفة الأشراف: 9890)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/126، 127)، سنن الدارمی/المقدمة 16 (96) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ہدایت یافتہ خلفاء سے مراد خلفاء راشدین ہیں، یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم، حدیث میں وارد ہے: «الخلافة ثلاثون عامًا» یعنی خلافت راشدہ تیس سال تک رہے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 44 سنن ابن ماجہ
يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 44]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (42) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح