مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِي ، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفیں برابر کرو، اس لیے کہ صفوں کی برابری تکمیل نماز میں داخل ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 74 (723)، صحیح مسلم/الصلاة (433)، سنن ابی داود/الصلاة 94 (668)، (تحفة الأشراف: 1243)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 28 (816)، التطبیق60 (1118)، مسند احمد (2/234، 319، 505، 3/177، 179، 254، 274، 291)، سنن الدارمی/الصلاة 49 (1299) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود امامت کے وقت صفوں کو دیکھتے، اور جب اطمینان ہو جاتا کہ صفیں برابر ہو گئیں تو اس وقت تکبیر کہتے، اور کبھی اپنے ہاتھ سے صف میں لوگوں کو آگے اور پیچھے کرتے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ہر ایک امام کو بذات خاص صفوں کے برابر کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے، اور مقتدیوں کو دیکھنا چاہئے کہ وہ برابر کھڑے ہوئے ہیں یا آگے پیچھے ہیں، اور صف بندی میں یہ ضروری ہے کہ لوگ برابر کھڑے ہوں آگے پیچھے نہ ہوں، اور قدم سے قدم مونڈھے سے مونڈھا ملا کر کھڑے ہوں، اور جب تک پہلی صف پوری نہ ہو دوسری صف میں کوئی کھڑا نہ ہو، اسی طرح سے اخیر صف تک لحاظ رکھا جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح