مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ خَرَجَ فِي سَفِينَةٍ فِيهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، فَحَانَتْ صَلَاةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ، فَأَمَرْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا، وَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ أَحَقُّنَا بِذَلِكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ، فَالصَّلَاةُ لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہو گا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 59 (580)، (تحفة الأشراف: 9912)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/145، 154، 156، 201) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح