أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخُو فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ يُقَدِّمُ فِتْيَانَ قَوْمِهِ يُصَلُّونَ بِهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ وَلَكَ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْإِمَامُ ضَامِنٌ، فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاءَ، يَعْنِي: فَعَلَيْهِ، وَلَا عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے جوانوں کو آگے بڑھاتے وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے، کسی نے سہل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ جوانوں کو نماز کے لیے آگے بڑھاتے ہیں، حالانکہ آپ کو سبقت اسلام کا بلند رتبہ حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے، اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کے لیے بھی ثواب ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی، اور اگر خراب طریقے سے پڑھائے تو اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4700، ومصباح الزجاجة: 354) (صحیح)» (دوسرے شواہد کے بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الحمید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1767)
وضاحت
۱؎: امام ضامن ہے کا مطلب یہ کہ اگر وہ اچھی طرح سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا اجر و ثواب اس کو اور مقتدیوں دونوں کو ملے گا، اور اگر خراب طریقے سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا وبال اسی پر ہو گا، نہ کہ مقتدیوں پر۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف۔عبدالحميد (بن سليمان) اتفقوا علي تضعيفه ‘‘ وھو: ضعيف
ولبعض الحديث شواھد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
الحكم: صحيح