بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ قَالَ لَنَا:" إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا، وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، جب ہم واپس ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان و اقامت کہو، اور تم میں جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 17 (628)، 18 (630)، 35 (658، 685)، 49 (819)، الجہاد 42 (2848)، الادب 27 (6008)، أخبار الآحاد 1 (7246)، صحیح مسلم/المساجد 53 (672)، سنن ابی داود/الصلاة 61 (589)، سنن الترمذی/الصلاة 37 (205)، سنن النسائی/الأذان 7 (635)، 8 (636)، 29 (670)، الإمامة 4 (782)، (تحفة الأشراف: 11182)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/436، 5/53)، سنن الدارمی/الصلاة 42 (1288) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ایک اذان کہے اور دوسرا جواب دے، یا یہ کہا جائے کہ دونوں کی طرف اسناد مجازی ہے مطلب یہ ہے کہ تم دونوں کے درمیان اذان اور اقامت ہونی چاہئے جو بھی کہے، اذان اور اقامت کا معاملہ چھوٹے بڑے کے ساتھ خاص نہیں، البتہ امامت جو بڑا ہو وہ کرے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح