عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَى رَجُلًا قَدْ شَبَّكَ أَصَابِعَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَفَرَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں تشبیک کر رکھی ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی انگلیاں الگ الگ کر دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الصلاة (386)، (تحفة الأشراف: 11121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/54، 4/242، 243)، سنن الدارمی/الصلاة 121 (1445) (ضعیف)» (علقمہ اور ابو بکر بن عیاش کے ضعف کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
وضاحت
۱؎: ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنے کا نام تشبیک ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف