هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَرْسَلُونِي إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَأَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ شَهْرًا، أَوْ صَبَاحًا، أَوْ سَاعَةً؟.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے (نمازی) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”چالیس ... تک ٹھہرے رہنا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے“۔ سفیان بن عیینہ (راوی حدیث) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 3749)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 101 (510)، صحیح مسلم/الصلاة 48 (507)، سنن ابی داود/الصلاة 109 (701)، سنن الترمذی/الصلاة 135 (336)، سنن النسائی/القبلة 8 (757)، مسند احمد (4/169) (صحیح)» (آگے کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
-
الحكم: صحيح لغيره