مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 47 (499)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (685)، سنن الترمذی/الصلاة 133 (335)، (تحفة الأشراف: 5011)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161، 162) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کا اندازہ بقدر ایک ہاتھ کے کیا ہے، اور موٹا بقدر ایک انگلی کے کافی ہے، اور سترے کے نزدیک کھڑا ہونا نمازی کے لئے بہتر ہے، اسی طرح سترے کو دائیں یا بائیں ابرو کے مقابل کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: حسن صحيح