عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ" قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي نَفْسَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! میں ہر خلیل (جگری دوست) کی دلی دوستی سے بری ہوں، اور اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل (مخلص دوست ہے)“ ۱؎۔ وکیع کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 93]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2383)، سنن الترمذی/المنا قب 16 (3655)، (تحفة الأشراف: 9498)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/377، 389، 389، 433، 408) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: خلیل ایسا جگری دوست ہے کہ جس کے سوا دل میں کسی کی جگہ نہ رہے، اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا خلیل (جگری دوست) میرا اللہ تعالیٰ ہی ہے کہ میرے دل میں اس کی محبت نے ذرہ برابر جگہ نہ چھوڑی کہ اب کسی کی محبت دل میں آ سکے، اور اگر ذرا بھی دل میں گنجائش ہوتی تو میں ابوبکر کو اس میں اس خصوصی دوستی والے جذبہ میں جگہ دیتا، اس حدیث سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بڑی فضیلت ثابت ہوئی، اور معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جگری دوستی اور خصوصی محبت کے قابل اور مستحق ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح