عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَمَّنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ جَانِبَيْهِ جَمِيعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے مڑتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 204 (1041)، سنن الترمذی/الصلاة 110 (301)، (تحفة الأشراف: 11733)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/226، 227) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ نماز سے فارغ ہو کر جدھر جی چاہے ادھر مقتدیوں کی طرف مڑ جائے، یہ ضروری نہیں کہ دائیں طرف ہی مڑے، اگرچہ دائیں طرف مڑنا بہتر ہے، لیکن واجب نہیں ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی کرے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح