أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» ”اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18250، ومصباح الزجاجة: 338)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/294، 318، 322) (صحیح)» (سند میں مولیٰ ام سلمہ مبہم ہے، لیکن ثوبان کی حدیث (جو أبوداود، و ترمذی میں ہے) سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہو کہ «اللهم أنت السلام» کے بعد جہاں نماز پڑھی ہے اسی جگہ بیٹھے ہوئے دوسری دعا بھی پڑھ سکتے ہیں، اور پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا بھی کیا کہ «اللهم أنت السلام» کے بعد اٹھ گئے، دوسری حدیث میں نماز کے بعد آیۃ الکرسی اور تسبیحات کا پڑھنا وارد ہے، اور ممکن ہے کہ فرض کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ چیزیں نہ پڑھتے ہوں بلکہ سنتوں کے بعد پڑھتے ہوں۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
سنده ضعيف
مولي أم سلمة مجھول و لم يثبت في رواية صحيحة بأنه عبد اللّٰه بن شداد (انظر مسند الحميدي بتحقيقي: 299)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535
الحكم: صحيح