بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 89 — باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔ حدیث 89
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَعْلَى ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارِيَةً أَعْزِلُ عَنْهَا؟ قَالَ:" سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"، فَأَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: قَدْ حَمَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُدِّرَ لِنَفْسٍ شَيْءٌ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 89]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2249، ومصباح الزجاجة: 33)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 22 (1439)، سنن ابی داود/النکاح 49 (2173)، مسند احمد (3/313، 388) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر منی گرانے کا نام عزل ہے۔ ۲؎: اس سے بھی معلوم ہوا کہ لڑکا اور لڑکی کی پیدائش اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، کسی پیر و فقیر اور ولی و مرشد کی نذر و نیاز اور منت ماننے سے نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (88) باب پر واپس اگلی حدیث (90) →