بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 889 — باب: رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی دعا (تسبیح) کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی دعا (تسبیح) کا بیان۔ حدیث 889
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں  «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي» اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو مجھے بخش دے پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 123 (794)، 139 (817)، المغازي 51 (4293)، تفسیر سورة النصر 1 (4968)، 2 (4968)، صحیح مسلم/الصلاة 42 (484)، سنن ابی داود/الصلاة 152 (877)، سنن النسائی/التطبیق10 (1048)، 64 (1123)، 65 (1124)، (تحفة الأشراف: 17635)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 49، 190) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: قرآن شریف میں ہے «فسبح بحمد ربك واستغفره» ، اس کا مطلب یہی ہے کہ نماز میں یوں کہو: «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفرلي» ، اور جو لفظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے اس کا اہتمام بہتر ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رکوع اور سجدے میں دعا کرنا درست ہے، اور نماز میں جہاں تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور دعا ہو سکے کرے، اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگے، اور جو دعائیں حدیث میں وارد ہیں ان کے سوا بھی جو دعا چاہے کرے کوئی ممانعت نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: بخاري ومسلم
← پچھلی حدیث (888) باب پر واپس اگلی حدیث (890) →