بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 87 — باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔ حدیث 87
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى بْنُ عِيسَى الْجَرَّارُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الْجَرَّارُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الْكُوفَةَ، أَتَيْنَاهُ فِي نَفَرٍ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا عَدِيَّ ابْنَ حَاتِمٍ" أَسْلِمْ تَسْلَمْ"، قُلْتُ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ فَقَالَ:" تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ كُلِّهَا لِخَيْرِهَا، وَشَرِّهَا، حُلْوِهَا، وَمُرِّهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جب کوفہ آئے تو ہم اہل کوفہ کے چند فقہاء کے ساتھ ان کے پاس گئے، اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو، تو وہ کہنے لگے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے، میں نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ، چاہے اچھی ہو، بری ہو، میٹھی ہو، کڑوی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 87]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9864، مصباح الزجاجة: 31)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/257، 378) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الاعلیٰ منکر الحدیث بلکہ تقریباً متروک الحدیث راوی ہیں، ملاحظہ ہو: ظلال الجنة: 135)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لإتفاقھم علي ضعف عبد الأعلي‘‘ عبدالأعلي بن أبي المساور: متروك،كذبه ابن معين (تقريب: 3737) و قال الھيثمي: و قد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 56/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
الحكم: ضعيف جدا
← پچھلی حدیث (86) باب پر واپس اگلی حدیث (88) →