بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ:" َأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ فَقَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میں ضرور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں، (چنانچہ ایک روز میں نے دیکھا) کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف رخ کیا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا، پھر جب رکوع کیا تو (بھی) اسی طرح اٹھایا (یعنی رفع یدین کیا)، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو (بھی) اسی طرح اٹھایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 116 (726)، سنن النسائی/الافتتاح 4 (880)، (تحفة الأشراف: 11781)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/315، 318، 318، 319)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1287) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہما دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لئے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح