أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ أُكَيْمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کوئی نماز پڑھائی، (ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی) نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے؟“، ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، میں نے کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوچ رہا تھا کہ کیا بات ہے قرآن پڑھنے میں کوئی مجھ سے منازعت (کھینچا تانی) کر رہا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 137 (826، 827)، سنن الترمذی/الصلاة 117 (312)، سنن النسائی/الافتتاح 28 (920)، (تحفة الأشراف: 14264)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 10 (44)، مسند احمد (2/240، 284، 285، 302، 487) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح